تحریر/مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
جو لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت کے بعد آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ اکثریت نے آپؐ کی نافرمانی کی ہو، اہلِ بیتؑ کو نظرانداز کیا ہو اور حالات یکسر بدل گئے ہوں، انہیں اپنے گردوپیش کی دنیا پر نظر ڈالنی چاہیے۔ آج کے حالات اس سوال کو سمجھنے کے لیے ایک زندہ مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی قوم کا مسلمان ہونا، رسول اللہؐ سے محبت کا دعویٰ کرنا اور اسلامی شعائر پر عمل کرنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر حال میں حق کا ساتھ بھی دے گی۔ زبان سے کسی عقیدے کا اظہار کرنا اور عملی زندگی میں اس عقیدے کے تقاضوں پر قائم رہنا دو الگ باتیں ہیں۔
آج فلسطین کو دیکھیے برسوں سے اس سرزمین کے مظلوم عوام ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ ہزاروں خاندان اجڑ گئے، بچے یتیم ہوئے، عورتیں بیوہ ہوئیں، گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، اسپتال تباہ ہوئے اور انسانیت کے بنیادی اصول پامال کیے گئے۔ فلسطینی عوام کی نسل کشی اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، لیکن افسوس کہ بہت سے مسلمان حکمرانوں نے اس ظلم کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان ہونے کا دعویٰ، اسلامی اخوت کا تصور اور مظلوم کی حمایت کا حکم موجود ہے تو پھر فلسطینیوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات اس قدر محدود اور کمزور کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اکثر مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات ہیں اور بعض ممالک تجارتی تعاون، رسد، راہداری کی فراہمی اور دیگر سہولتوں کے ذریعے اس کے لیے حالات سازگار بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان فوجی تعاون، امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور فضائی حدود کے استعمال نے بھی یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آخر مظلوم فلسطینیوں کے لیے عملی حمایت کہاں ہے؟
اگر ایک طرف مظلوموں کے حق میں بیانات دیے جائیں اور دوسری طرف ایسے اقدامات جاری رہیں جو ظالم کی قوت میں اضافہ کریں، تو پھر ان بیانات کی حقیقی قدر کیا رہ جاتی ہے؟
کیا محض مذمتی بیان جاری کر دینا مظلوم کی حمایت کے لیے کافی ہے، جب کہ عملی فیصلے اس کے بالکل برعکس نتائج پیدا کر رہے ہوں؟
دوسری طرف ایران، حزب اللہ اور یمن کی انصار اللہ نے مختلف اوقات میں امریہ و اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ ٹھیک ہے، آپ ان سے مسلکی یا سیاسی اختلاف کر سکتے ہیں، ان کی حکمتِ عملی سے اختلاف بھی رکھ سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ فلسطین کے مسئلے پر ان کی مزاحمت نے خطے کی سیاست میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود ان قوتوں کو شدید فوجی دباؤ، حملوں اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اکثر مسلم ممالک کے کردار نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا کہ امتِ مسلمہ میں مظلوموں کی حمایت کے معاملے پر اتنا بڑا تضاد کیوں پایا جاتا ہے؟
ایک طرف فلسطین کے حق میں جذباتی تقاریر اور دعوے ہیں، تو دوسری طرف ان قوتوں سے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ان کی مزاحمت کی مخالفت یا ان کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ہمارے نزدیک زیادہ اہمیت کس چیز کی ہے: مظلوم کی حمایت یا مسلکی اور سیاسی وابستگی؟
یمن کی صورتِ حال بھی ہمارے سامنے ہے۔ برسوں سے وہاں کے عوام جنگ، محاصرے، معاشی تباہی اور انسانی بحران کی قیمت ادا کرتے رہے ہیں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ماضی میں یمن میں فوجی کارروائیاں کیں اور مختلف ادوار میں فضائی، بحری اور زمینی پابندیوں نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ امریکی، اسرائیلی اور دیگر بیرونی فوجی کارروائیوں نے بھی اس بحران کو مزید سنگین بنایا ہے۔ جب جنگ کا نشانہ عام شہری، بچے، تعلیمی ادارے اور طبی مراکز بنتے ہیں تو یہ محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ انسانیت اور اخلاقیات کا بنیادی سوال بن جاتا ہے۔ اگر کسی ملک کے عوام برسوں تک جنگ اور تباہی کی چکی میں پستے رہیں، ان کی بنیادی ضروریات متاثر ہوں اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے، تو کیا ان کے دکھ کو صرف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟
یہ تمام واقعات ہمیں ایک تلخ حقیقت سمجھاتے ہیں: حق واضح ہونے کے باوجود اکثریت کا اس کا ساتھ دینا ضروری نہیں، اور کسی جماعت یا گروہ کی تعداد اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ لوگ اپنے مفادات، اقتدار، خوف، تعصبات، مصلحتوں اور دنیاوی فائدوں کی خاطر حق سے منہ موڑ سکتے ہیں۔ بعض اوقات وہ زبان سے دین، رسول اللہؐ اور اسلامی اخوت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن جب ان کے مفادات اور دینی اصولوں کے درمیان انتخاب کا وقت آتا ہے تو ان کے عملی فیصلے ان کے دعووں کے برعکس ہوتے ہیں۔ اس طرح بظاہر دین سے وابستگی برقرار رہتی ہے، مگر دین کے بنیادی تقاضے پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔
اب ذرا تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور پر غور کیجیے۔ اگر آج مسلمان حکمرانوں، معاشروں اور مذہبی طبقات میں اتنا بڑا تضاد پایا جا سکتا ہے، اگر رسول اللہؐ سے محبت کے دعوے کے باوجود مظلوموں کو تنہا چھوڑا جا سکتا ہے، اگر مذہبی شناخت کے باوجود سیاسی مفادات کو اصولوں پر ترجیح دی جا سکتی ہے، تو پھر یہ سوال آخر کیوں ناقابلِ فہم سمجھا جاتا ہے کہ رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد بھی حالات بدل سکتے تھے؟
کیا اس زمانے کے انسانوں میں مفادات، قبائلی وابستگیاں، اقتدار کی خواہشات اور سیاسی مصلحتیں موجود نہیں ہو سکتی تھیں؟
کیا یہ ضروری تھا کہ رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد ہر شخص ہر حال میں انہی اصولوں پر قائم رہتا جن کی تعلیم آپؐ نے دی تھی؟
کیا تاریخِ انسانی اس حقیقت سے خالی ہے کہ کسی عظیم رہنما کی موجودگی میں لوگ اس کے احترام اور اطاعت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اس کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور اقتدار و قیادت کے سوالات نئے تنازعات کو جنم دینے لگتے ہیں؟
رسول اللہؐ کے زمانے میں اہلِ بیتؑ کی عظمت، مقام اور رسول اللہؐ سے قربت ایک حقیقت تھی؛ لیکن رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد سیاسی حالات، اقتدار کے سوالات اور معاشرتی ترجیحات بدل گئیں، کسی شخصیت کے مقام و مرتبے کو تسلیم کرنا اور عملی سیاست میں اس کے حق کو تسلیم کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ایک شخص کسی کی فضیلت کا اعتراف کر سکتا ہے، اس سے محبت کا اظہار بھی کر سکتا ہے، لیکن جب عملی فیصلے کا وقت آئے تو اس کے حق کو وہ اہمیت نہ دے جو دینی اصولوں کے مطابق اسے دینی چاہیے۔ آج کے واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ کسی رہنما یا اصول کی زبانی تعظیم کے باوجود عملی فیصلے اس کے خلاف ہو سکتے ہیں۔
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد پیش آنے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے صرف اس تصور پر اصرار کرنا کافی نہیں کہ رسولؐ کے زمانے میں جو لوگ آپؐ کے ساتھ تھے، وہ آپؐ کے بعد بھی لازماً ہر معاملے میں حق پر قائم رہے ہوں گے۔ انسانوں کے رویے حالات کے ساتھ بدلتے ہیں، سیاسی مفادات دینی اصولوں پر غالب آ سکتے ہیں اور اجتماعی فیصلے انفرادی وفاداریوں اور دینی تعلیمات سے مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے تاریخ کے مطالعے میں انسانی نفسیات، سیاسی مفادات اور اقتدار کی کشمکش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
"بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی"
لہٰذا جو شخص آج کے حالات دیکھنے کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد کسی بڑی تعداد کا حق سے ہٹ جانا یا اہلِ بیتؑ کے مقام و حق کو نظرانداز کرنا ناممکن تھا، اسے تاریخ کے مطالعے میں انسانی رویوں اور سیاسی حقیقتوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ موجودہ حالات ماضی کے واقعات کا اس لیے آئینہ ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے گذشتہ بزرگوں سے جو تعلیم و تربیت حاصل کی ہے آج وہی ظاہر ہو رہی ہے،
آج کے حالات گذشتہ مسلمان معاشروں کے رویوں کو سمجھنے میں ایک اہم مثال فراہم کرتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ مذہبی شناخت، مقدس شخصیات سے محبت اور حق کی عملی حمایت ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چلتیں۔ اس لیے تاریخی واقعات کو سمجھنے کے لیے معتبر شواہد، واقعات کے تسلسل اور انسانی کرداروں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اکثریت حق سے کیوں ہٹ سکتی تھی؛ اصل سوال یہ ہے کہ جب حق اور اکثریت میں اختلاف ہو تو انسان کس کا ساتھ دیتا ہے؟
فلسطین کے مظلوم، یمن کے بے بس عوام اور خطے کے دوسرے متاثرہ انسان ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ حق کا معیار تعداد، اقتدار یا بلند بانگ دعوے نہیں، بلکہ اصول، انصاف اور عمل ہیں۔ کسی مظلوم کی حمایت کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کی حمایت کرنے سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اسی طرح کسی دینی اصول سے وفاداری کا حقیقی امتحان بھی اس وقت ہوتا ہے جب اس اصول کے تقاضے ذاتی، گروہی یا سیاسی مفادات سے ٹکرا رہے ہوں۔
تاریخ بھی اسی اصول کے تحت پڑھی جانی چاہیے۔ اگر آج ہم اپنے زمانے کے تضادات کو پہچان سکتے ہیں، اگر ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے باوجود بعض لوگ مظلوموں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور مذہبی دعووں کے باوجود سیاسی مصلحتوں اور ظالمین کو ترجیح دیتے ہیں، تو ماضی کے واقعات کو سمجھنے کے لیے بھی ہمارے اندر یہی فکری دیانت اور حقیقت پسندی ہونا چاہیے۔ ہمیں کسی واقعے کو صرف اس وجہ سے ناممکن قرار نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہمارے ذہن میں قائم کسی سابقہ تصور سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ تاریخی شواہد کیا کہتے ہیں اور واقعات کا تسلسل کس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
کیونکہ اکثریت کا کسی راستے پر چل پڑنا اس راستے کو حق نہیں بنا دیتا، اور حق پر قائم رہنے کے لیے ہمیشہ اکثریت کا ساتھ ضروری نہیں ہوتا۔ حق کی پہچان تعداد سے نہیں ہوتی؛ تعداد کی درست یا غلط سمت کا فیصلہ حق کے معیار پر کیا جاتا ہے۔ یہی اصول آج کے حالات کو سمجھنے کے لیے بھی ضروری ہے اور تاریخِ اسلام کے ابتدائی واقعات کا مطالعہ کرنے کے لیے بھی۔










آپ کا تبصرہ